31 مارچ 2011 - 19:30

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار کے شھریوں نے بدھ کے روز خبردار کیاتھا کہ اگر اس علاقے میں طالبان پر قابو نہ پایا گیا تو کسی بھی غیر ذمہ درانہ اقدام کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی۔

ابنا: پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار کے شہریوں نے بدھ کے روز  احتجاجی مظاہرہ کرکے خبردار کیاتھا کہ اگر اس علاقے میں طالبان پر قابو نہ پایا گیا تو کسی بھی غیر ذمہ درانہ اقدام کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق اس مظاہرے میں ہزاروں شہریوں نے طالبان کے خلاف نعرے لگائے اور سرکاری فورسز کی موجودگی میں دسیوں افراد کے اغوا اور قتل کے اقدام کی مذمت کی۔

جلوس کے شرکا نے حکومت کو تین دن کی مہلت دی اور خبر دار کیا کہ اغوا شدہ افراد کو اگر تین دن میں رہا نہ کیا گیا تو وہ از خود اقدام کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس وقت سے اب تک پاراچنار کے پرامن شہریوں کو نام نہاد جہادیوں اور ان کے مقامی حمایتیوں کی جانب سے متعدد بار حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور اب عرصہ چار سال سے یہ شہر مکمل طور سے طالبان کے محاصرے میں ہیں۔

مقام حیرت ہے کہ اس غیر انسانی اقدام پر حکومت تو خاموش ہے ہی، پاکستان کے آزاد میڈیا اور جرائد نے میں بھی مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ارباب اقتدار اور صاحبان ذرائع ابلاغ اپنے مفادات اور بعض نادیدہ قوتوں کی ڈکٹیٹ شدہ پالیسیوں کے تحت عمل کرتے ہیں لیکن انسانی حقوق کا دم بھرنے والوں نے کیوں چب سادھ رکھی، یہ بات سمجھ سے باہر ہے ۔

بشکریہ از شیعت نیوز

بہرحال بدھ کے مظاہرہ اور حکومت کو دی جانے والی مہلت پارا چنار کے شہریوں کا سنجیدہ اقدام ہے اور اس مہلت کا آج آخری دن ہے اب دیکھتے ہیں کہ حکومت قیام امن کے سلسلے میں کس حد تک سنجیدہ ہے اور کیا وہ اپنے بے بسی سے چھٹکارا پا کر اپنے محب وطن شہریوں کو امن دے سکتی ہے یا پھر اس علاقے کے غیور عوام کو ایک بار پھر اپنے دشمن کا خود مقابلہ کرکے اسے ٹھکانے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب آج ملنا ہی چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110